دبئی میں ترقی کا عروج نئے سوالات کی زد میں آگیا

دبئی: مشرق وسطیٰ کی جنگ سے دبئی پر انتہائی منفی اثرات پڑرہے ہیں اور حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ دبئی میں ترقی کا عروج نئے سوالات کی زد میں آگیا ہے۔
سوالات پوچھے جانے لگے ہیں کہ دبئی جب آسمان سے باتیں کرتی ہوئی اونچی اونچی کرینیں نظر آتی ہیں اور حد سے زیادہ پرتعیش اور پرآسائش گھر ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوتے نظر آتے ہیں تو صاف لگتا ہے کہ دبئی میں پراپرٹی کا کاروبار عروج پر ہے، لیکن اب مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد احتمال ہے کہ پراپرٹی کا یہ عروج کمزور پڑسکتا ہے۔
پراپرٹی اور تعمیرات سے متعلق ڈویلپرز، بروکرز اور سرمایہ کار نجی طور پر یہ پوچھتے نظر آرہے ہیں کہ پچھلے سال پراپرٹی کے جس بزنس کو خوب گرما گرم ترقی ملی تھی۔ مشرق وسطیٰ جنگ کے نتیجے میں اب کوئی فطری کمی یا تکلیف دہ کمزوری آسکتی ہے۔
پچھلے دس سال میں ڈی 33 نام سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ تاکہ دبئی کو دنیا کے چار بڑے مالیاتی مراکز میں سے ایک بنایا جاسکے۔
دبئی کی معیشت میں ریئل اسٹیٹ بزنس اس سبب آج بھی بلندی پر نظر آتا ہے کہ مجموعی معاشی ترقی میں اس کا حصہ 8 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔ مگر مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد منفی اثرات پڑرہے ہیں اور اس رجحان میں خاصی کمی کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
اندیشے ظاہر کیے جارہے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طوالت اختیار کرگئی تو رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بیٹھ کر رہ جائے گا، دبئی کی ترقی کا سفر تھم جائے گا اور سرمایہ کار یہاں سے دوسرے ممالک کا رُخ کریں گے۔

comes under new scrutinydubaipeak of development