خریداری میں تیزی کے سبب روئی نرخ بڑھنے کا امکان

کراچی: مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری میں تیزی کے باعث رواں ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
کپاس کی مجموعی قومی پیداوار مقررہ ہدف کی نسبت 45 فیصد تک کمی کی توقعات کے باوجود ایک سے ڈیڑھ لاکھ گانٹھ زائد ہونے کے امکانات ہیں۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں سے روئی کی اسپاٹ قیمتوں کے عدم اجراء سے دنیا بھر کی کپاس منڈیوں میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 16 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کی خریداری کی ہے جو توقعات سے زیادہ ہے اور اگر ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نہ ہوتی تو اس میں کم از کم 50 ہزار گانٹھوں کا مزید اضافہ ممکن تھا۔
احسان الحق نے کہا کہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ دسمبر میں بینک کلوزنگ جیسے معاملات، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور چین میں سوتی دھاگے اور کپڑے کی قیمتوں میں تیزی جیسے عوامل رواں ہفتے ٹیکسٹائل ملوں کی روئی خریداری متوقع طور پر بڑھنے سے روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان سامنے آسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ 16 سے 31 اکتوبر 2025 کے دوران جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 56 فیصد اضافہ ہے۔ 31 دسمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 54 لاکھ 34 ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں زیرتبصرہ مدت کے دوران 25 لاکھ 41 ہزار گانٹھ جب کہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 28 لاکھ 93 ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے، جو گزشتہ سال کے اسی مدت کی نسبت بالترتیب 4.44 فیصد کم اور 3.58 فیصد زائد ہے۔
کراپ رپورٹنگ سینٹرز نے پنجاب میں 28 لاکھ 14 ہزار جب کہ سندھ میں 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کی کاشت کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود 31 اکتوبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار 3 لاکھ 52 ہزار زائد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عرصے تک ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 47 لاکھ 08 ہزار گانٹھ جب کہ برآمد کنندگان نے ایک لاکھ 76 ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں اور جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 5 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ 12 دسمبر کو کے سی اے کی عمارت کو سیل کیے جانے سے گزشتہ 3 ہفتوں سے روئی کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے کے باعث جہاں پاکستان میں بینکوں ودیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹیکسٹائل ملز اور جننگ فیکٹریوں کو دیے جانے والے قرضوں میں مسائل درپیش ہیں وہیں دنیا بھر کی کاٹن مارکیٹس میں روزانہ جاری ہونے والے روئی کے نرخوں کے حوالے سے پاکستانی کپاس کی نمائندگی نہ ہونے سے ان مارکیٹس میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
کئی پاکستانی کاٹن پراڈکٹس ایکسپورٹر تنظیموں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کے سی اے کی عمارت کا مسئلہ جلد سے جلد حل کرایا جائے۔ سال 1973 کے بعد 52 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان سے کپاس کے اسپاٹ ریٹس جاری نہ ہونے سے پوری کاٹن انڈسٹری میں تشویش دیکھی جا رہی ہے جسے جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نئی شوگر ملز لگانے کی اجازت دی جارہی ہے لیکن ان اقدامات کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں کپاس کی کاشت میں مزید 50 فیصد گھٹ جائے گی جس سے پاکستان میں روئی اور خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ اربوں ڈالر کا اضافی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا اس لئے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ کاٹن زونز میں نئی شوگر ملز لگانے یا پہلے سے قائم شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر پابندی قائم رکھے تاکہ پاکستان میں حقیقی طور پر کپاس کی بحالی ہوسکے۔

Cotton rateincrease