انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
برطانیہ کی معروف سپر مارکیٹ چین اسڈا (Asda) نے بڑھتے ہوئے جرائم اور چوری کے واقعات کے پیش نظر اپنی اسٹور سیکیورٹی کی ذمے داری اب ایک نجی سہولتی ادارے مائٹی (Mitie) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک طویل المدتی اور کثیر سالہ معاہدے کے تحت ملک بھر میں اسڈا کے ہزار سے زائد اسٹورز کی نگرانی کرے گا۔
اس معاہدے کے تحت مائٹی کو اسڈا کے قریباً 1,100 سپر اسٹورز، سپر مارکیٹس، لیونگ اسٹورز اور ایکسپریس اسٹورز میں سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی ذمے داری دی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا اور صارفین و عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ مائٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسڈا کو ایک جدید اور ڈیٹا پر مبنی سیکیورٹی ماڈل کی طرف منتقل کرے گا، جس میں روایتی نگرانی کے بجائے نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنائی جائے گی، تاکہ سیکیورٹی اقدامات زیادہ مؤثر اور بروقت ثابت ہوں۔
اس نئے نظام میں سب سے اہم پہلو "فلیکسبل گارڈنگ” ہوگا، جس کے تحت سیکیورٹی گارڈز کو ان اسٹورز میں زیادہ تعینات کیا جائے گا، جہاں جرائم اور چوری کے واقعات زیادہ رپورٹ ہورہے ہوں گے، تاکہ وسائل کا درست استعمال ممکن ہو اور کم خطرے والے علاقوں میں غیر ضروری نفری کم رکھی جاسکے۔
اس کے علاوہ خصوصی اسٹور ڈیٹیکٹوز بھی متعارف کروائے جارہے ہیں، جو ڈیٹا اور تجزیے کی بنیاد پر مخصوص علاقوں میں چوری کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کریں گے، تاکہ پیشہ ور چوروں، گروہوں اور بار بار جرم کرنے والوں کو بروقت شناخت کرکے روکا جاسکے۔
اسڈا کے تمام اسٹورز کو ایک مرکزی 24 گھنٹے فعال آپریشن ہب سے منسلک کیا جائے گا، جہاں سے ریموٹ مانیٹرنگ کی جائے گی، لائیو فیڈ دیکھی جائے گی اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردعمل ممکن ہوگا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں اسڈا کے قریباً دو ہزار سے زائد سیکیورٹی گارڈز مائٹی میں منتقل ہوجائیں گے، جس سے ایک طرف ملازمین کی نوکریاں محفوظ رہیں گی اور دوسری جانب سیکیورٹی کا مکمل انتظام ایک ہی ادارے کے تحت آجائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ بھر میں ریٹیل جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، خاص طور پر سپر مارکیٹس اور بڑے اسٹورز میں چوری، دھوکا دہی اور عملے کو ہراساں کرنے کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں پاؤنڈ مالیت کا سامان چوری ہورہا ہے، جس سے نہ صرف کاروبار کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عملے اور صارفین دونوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہورہا ہے۔
اس صورت حال کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی سمجھی جارہی ہے، کیونکہ اشیائے خورونوش، دودھ، روٹی، سبزیوں اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کی قوتِ خرید تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔
جب لوگوں کے پاس ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے کم ہوں تو بعض افراد مجبوری میں یا عادتاً چوری جیسے جرائم کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، جو معاشرتی بگاڑ اور معاشی ناکامی کی واضح علامت ہے۔
مہنگائی کے علاوہ بے روزگاری، کم اجرتیں، بڑھتے ہوئے کرائے، انرجی بلز، ٹیکسوں کا بوجھ اور سماجی عدم مساوات بھی ایسے عوامل ہیں جو جرائم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں اور معاشرے میں بے چینی کو جنم دے رہے ہیں۔
برطانیہ میں اس وقت زندگی گزارنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوچکا ہے، خاص طور پر کم آمدن والے طبقے کے لیے، جنہیں روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی خاندان خیراتی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔
اسی لیے بڑے کاروباری ادارے جیسے اسڈا اب اپنی سیکیورٹی کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، کیونکہ انہیں اندازہ ہوچکا کہ اگر حفاظتی اقدامات مضبوط نہ کیے گئے تو نہ صرف مالی نقصانات بڑھیں گے بلکہ عملے کے لیے کام کرنا بھی خطرناک ہوتا جائے گا۔
یہ صرف اسڈا تک محدود نہیں بلکہ ٹیسکو، سینزبری، مارکس اینڈ اسپینسر اور دیگر بڑی ریٹیل چینز بھی اپنی سیکیورٹی پالیسیوں پر ازسرنو غور کررہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ میں شامل ہوچکی ہیں۔
سی سی ٹی وی کیمروں کے علاوہ اب چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسز، آرٹیفیشیل انٹیلی جنس اور سینٹرل کنٹرول رومز کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے، تاکہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جاسکے۔
مائٹی (Mitie) جیسے ادارے اس رجحان سے فائدہ اٹھارہے ہیں، کیونکہ وہ نہ صرف گارڈ فراہم کرتے ہیں بلکہ مکمل سیکیورٹی سسٹم، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، رسک اسیسمنٹ اور اسٹرٹیجک پلاننگ بھی ڈیزائن کرتے ہیں، جو بڑے اداروں کے لیے ایک جامع حل بن چکا ہے۔
تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی میں اضافہ مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اصل مسئلہ معاشی بحران ہے، جسے حل کیے بغیر جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، کیونکہ غربت اور مایوسی جرم کی بنیادی جڑ ہیں۔
اگر حکومت مہنگائی پر قابو پائے، لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے، کم از کم اجرت میں اضافہ کرے اور بنیادی سہولتوں کو سستا بنائے تو جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی اور معاشرے میں اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔
مگر موجودہ حالات میں کاروباری ادارے مجبور ہیں کہ وہ خود اپنی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کریں، کیونکہ نقصانات اب ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکے ہیں اور ہر سال اربوں پاؤنڈ کا سامان چوری ہورہا ہے۔
اسڈا کا یہ فیصلہ دراصل موجودہ انگلینڈ کی معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جرائم ایک معمول بنتے جارہے ہیں اور سیکیورٹی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جو پہلے صرف مخصوص علاقوں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کے دور میں برطانیہ میں سیکیورٹی پر خرچ کرنا اب لگژری نہیں بلکہ ایک مجبوری بن چکا ہے، کیونکہ ہر ادارہ اپنی ساکھ، عملے کے تحفظ اور صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی سیکیورٹی پر سرمایہ کاری کررہا ہے۔
مستقبل میں اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو ممکن ہے مزید ادارے بھی اسی طرح اپنی سیکیورٹی آؤٹ سورس کرنے پر مجبور ہوجائیں اور پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں سماجی ڈھانچے میں پہلے سے زیادہ طاقتور کردار ادا کرنے لگیں۔
کیونکہ یہ مسئلہ اب صرف کاروبار کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ بن چکا ہے، اور جب تک مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام جیسے بنیادی عوامل پر قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک چاہے جتنی بھی سیکیورٹی بڑھالی جائے، جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔