دبئی: علاقائی کشیدگی اور خبروں میں بڑھتی ہوئی جنگی صورت حال کے باعث دبئی سمیت متحدہ عرب امارات میں بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسکولوں میں آن لائن تعلیم شروع ہونے اور موسمِ بہار کی تعطیلات کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد بچوں میں مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
بچے اپنے والدین سے پوچھ رہے ہیں: ”کیا ہم محفوظ ہیں؟“، ”یہ آوازیں کیا آتش بازی کی ہیں؟“ اور ”اسکول دوبارہ کب کھلیں گے؟“ ایسے سوالات نے والدین کے لیے صورت حال کو سمجھانا مزید مشکل بنادیا ہے۔
خلیج اردو کے مطابق دبئی میں فورٹس ایجوکیشن کے ڈائریکٹر تعلیم ڈاکٹر نیل ہوپکن کے مطابق بچوں کو سب سے پہلے جذباتی طور پر محفوظ محسوس کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، بچوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے خدشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں سچائی اور اعتماد کے ساتھ صورت حال کو سمجھائیں۔
چھوٹے بچوں کے والدین کو اسی طرح کے سوالات کا سامنا ہے۔ دبئی میں مقیم ایلینا روسو کے مطابق ان کا دس سالہ بیٹا بار بار پوچھتا ہے کہ کیا وہ باہر جاکر کھیل سکتا ہے اور کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سادہ الفاظ میں بتاتی ہیں کہ کچھ دن احتیاط ضروری ہے۔