وقاص بیگ
ایک گاؤں میں نثار نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ بہت چالاک سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت میں اس کی چالاکی زیادہ تر دھوکے، جھوٹ اور لوگوں کو بے وقوف بنانے میں استعمال ہوتی تھی۔ گاؤں والے اسے مذاق میں "سیٹھ نثار” کہتے تھے، حالانکہ اس کے پاس نہ کوئی بڑی دکان تھی اور نہ ہی کوئی خاص دولت۔ وہ خود ہی اپنے بارے میں اتنی بڑی بڑی باتیں کرتا کہ سننے والے حیران رہ جاتے۔ نثار کا ایک عجیب اصول تھا۔ وہ ہر روز ایک نیا جھوٹ بولتا اور شام تک کوشش کرتا کہ لوگ اس پر یقین بھی کرلیں۔ کبھی کہتا، "میں نے شہر کے بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔” کبھی دعویٰ کرتا، "میرے پاس اتنا سونا ہے کہ اگر بیچ دوں تو پورا گاؤں خرید لوں۔”
گاؤں کے لوگ شروع میں اس کی باتوں پر یقین کرلیتے تھے، مگر آہستہ آہستہ سب کو اس کی عادت کا پتا چل گیا۔ اب جب بھی وہ کوئی نئی بات کرتا تو لوگ مسکرا کر کہتے، "لو جی، آج کا جھوٹ بھی آگیا۔” ایک دن نثار نے سوچا کہ صرف جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ؟ کیوں نہ کوئی بڑا دھوکا دے کر خوب پیسے کمائے جائیں۔ اس نے اعلان کردیا کہ اسے ایک ایسی جادوئی مرغی ملی ہے جو روزانہ سونے کا انڈا دیتی ہے۔ یہ خبر پورے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ حیران تھے۔ کچھ نے یقین کیا، کچھ نے نہیں، لیکن سب کے دل میں تجسس ضرور پیدا ہوگیا۔ اگلے دن نثار نے اپنے گھر کے باہر ایک چھوٹا سا بورڈ لگادیا: "سونے کا انڈا دینے والی مرغی دیکھنے کا ٹکٹ: صرف 100 روپے۔” گاؤں والے ہنستے ہوئے بھی ٹکٹ خریدنے لگے۔ کوئی تفریح کے لیے آیا، کوئی تجسس میں اور کوئی واقعی لالچ میں۔
مرغی عام سی تھی، لیکن نثار نے پہلے سے ایک سنہری رنگ کیا ہوا انڈا اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ لوگ انڈا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ایک شخص نے پوچھا، "سیٹھ جی! یہ مرغی بیچو گے؟” نثار نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا، "بیچ تو سکتا ہوں، لیکن قیمت کم از کم پانچ لاکھ روپے ہوگی۔”
اب گاؤں کے سب سے لالچی شخص، کریم بخش، کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے۔ اس نے سوچا کہ اگر مرغی خرید لی تو چند ماہ میں کروڑ پتی بن جاؤں گا۔ کریم بخش نے ادھار، قرض اور جمع پونجی ملا کر پانچ لاکھ روپے جمع کیے اور مرغی خرید لی۔ نثار خوشی خوشی پیسے لے کر گھر آگیا اور دل ہی دل میں خود کو دنیا کا سب سے ذہین آدمی سمجھنے لگا۔ اگلی صبح کریم بخش بڑی امید سے مرغی کے پاس گیا، مگر وہاں صرف ایک عام سا انڈا پڑا تھا۔ اس نے سوچا شاید آج مرغی کا موڈ نہیں ہوگا۔ دوسرے دن بھی عام انڈا۔ تیسرے دن بھی عام انڈا۔ چوتھے دن اس کا صبر جواب دے گیا۔ وہ مرغی اٹھا کر نثار کے گھر پہنچ گیا۔ "او دھوکے باز! یہ تو عام مرغی ہے!”
نثار بولا، "مرغی تو وہی ہے، شاید سونا ختم ہوگیا ہو!” یہ سن کر اردگرد کھڑے لوگ قہقہے لگانے لگے۔ معاملہ پنچایت تک پہنچ گیا۔ گاؤں کے بزرگوں نے تحقیق کی تو سارا دھوکا سامنے آگیا۔ نثار کو حکم دیا گیا کہ پانچ لاکھ روپے واپس کرے۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس نے آدھے پیسے نئے کپڑوں، موبائل فون اور فضول خرچی میں اڑا دیے تھے۔ اب اسے قرض لے کر رقم واپس کرنی پڑی۔ جو پیسے اس نے آسانی سے کمائے تھے، وہ کئی گنا مشکل سے واپس دینے پڑے۔
اس واقعے کے بعد گاؤں میں اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ بچے بھی اسے دیکھ کر کہتے: "سیٹھ جی! آج سونے کا انڈا آیا یا پلاستک کا؟” لوگ ہنس دیتے اور نثار شرمندہ ہو جاتا۔
ایک دن وہ بازار جارہا تھا کہ راستے میں ایک بزرگ ملے۔ انہوں نے کہا: "بیٹا، تمہارے پاس عقل کی کمی نہیں، نیت کی کمی ہے۔ اگر یہی ذہانت سچائی اور محنت میں لگاتے تو آج عزت دار انسان ہوتے۔” یہ جملہ نثار کے دل پر تیر کی طرح لگا۔ اس رات وہ دیر تک سوچتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے چند دن کی چالاکی کے لیے برسوں کی عزت کھو دی ہے۔ پیسہ تو واپس کمایا جاسکتا ہے، لیکن اعتماد واپس حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ اب زندگی بدلنی ہے۔ اس نے ایک چھوٹی سی دکان کھول لی۔ شروع میں لوگ اس پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ جب بھی وہ کسی چیز کی قیمت بتاتا تو گاہک دوبارہ پوچھتے: "سچ سچ بتاؤ، دھوکا تو نہیں دے رہے؟” لوگوں کی یہ باتیں اسے چبھتی تھیں، لیکن وہ خاموش رہتا۔ مہینے گزرتے گئے۔ نثار ایمان داری سے کاروبار کرتا رہا۔ اگر کسی چیز میں نقص ہوتا تو پہلے ہی بتادیتا۔ اگر کسی گاہک کے زیادہ پیسے رہ جاتے تو واپس کردیتا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کا اعتماد بحال ہونے لگا۔ ایک دن وہی بزرگ دوبارہ اس کی دکان پر آئے۔ انہوں نے مسکرا کر کہا: "دیکھا؟ سچائی کا منافع کم ضرور لگتا ہے، لیکن نقصان کبھی نہیں دیتا۔” نثار نے ادب سے جواب دیا: "بابا جی، پہلے میں لوگوں کو بے وقوف بناکر خوش ہوتا تھا، اب لوگوں کا اعتماد جیت کر سکون ملتا ہے۔” بزرگ مسکرائے اور بولے: "اصل کامیابی دولت نہیں، عزت ہے۔”
اس دن کے بعد نثار گاؤں میں ایک مثال بن گیا۔ جب بھی کوئی نوجوان شارٹ کٹ، جھوٹ یا دھوکے سے کامیابی حاصل کرنے کی بات کرتا تو لوگ فوراً کہتے: "بھائی! سونے کا انڈا دینے والی مرغی یاد ہے نا؟” اور سب ہنس پڑتے۔ مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک گہرا سبق چھپا ہوتا تھا:
جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر سچائی مستقل عزت دیتی ہے۔ دھوکے سے جیب بھر سکتی ہے، لیکن دل خالی رہتا ہے جب کہ ایمان داری سے شاید دولت آہستہ آئے، مگر عزت، سکون اور اعتماد ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے زندگی میں چالاک بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی کوشش کریں، کیونکہ دنیا آخرکار ذہانت نہیں، کردار کو یاد رکھتی ہے۔