محمد راحیل وارثی
شبِ معراج اسلامی تاریخ کی اُن عظیم اور بابرکت راتوں میں سے ہے جو امتِ مسلمہ کے ایمان کو تازگی، یقین کو مضبوطی اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ مقدس رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی، حضرت محمد ﷺ کو ایک ایسے روحانی و جسمانی سفر سے نوازا جو انسانی عقل و فہم سے ماورا ہے۔ یہ سفر نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کے بلند مقام و مرتبے کا مظہر ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت، صبر، عبادت اور قربِ الٰہی کا پیغام بھی رکھتا ہے۔
لفظ معراج عربی زبان کے لفظ عروج سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں بلندی کی طرف جانا۔ اسلامی اصطلاح میں معراج اُس سفر کو کہا جاتا ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) لے جایا گیا، پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی گئی، حتیٰ کہ آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔
یہ عظیم واقعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ 1. اسراء: مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر۔ 2. معراج: مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف بلندی کا سفر۔
قرآنِ مجید میں اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل (آیت 1) میں صراحت کے ساتھ موجود ہے، جو اس واقعے کی حقانیت پر واضح دلیل ہے۔
اکثر مؤرخین کے مطابق شبِ معراج کا واقعہ نبوت کے دسویں یا گیارہویں سال پیش آیا۔ یہ وہ دور تھا جب نبی کریم ﷺ سخت ترین آزمائشوں سے گزر رہے تھے۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کی رحلت ہوچکی تھی، طائف کا واقعہ تازہ تھا اور مکہ میں ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو معراج کا شرف عطا فرما کر یہ پیغام دیا کہ آزمائش کے بعد راحت ہے اور اللہ اپنے نبی کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
معراج کے دوران نبی کریم ﷺ نے مختلف آسمانوں پر انبیائے کرامؑ سے ملاقات کی۔ پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ، دوسرے پر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ، تیسرے پر حضرت یوسفؑ، چوتھے پر حضرت ادریسؑ، پانچویں پر حضرت ہارونؑ، چھٹے پر حضرت موسیٰؑ اور ساتویں پر حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی تھا: توحید، اطاعتِ الٰہی اور اخلاقِ حسنہ۔
شبِ معراج کا سب سے عظیم تحفہ نماز ہے۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں مگر حضرت موسیٰؑ کے مشورے اور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ الٰہی میں بار بار رجوع کے بعد یہ تعداد پانچ کردی گئی جب کہ اجر 50 ہی نمازوں کے برابر رکھا گیا۔
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نماز دینِ اسلام کی بنیاد، مومن کی معراج اور اللہ سے تعلق کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کو کسی واسطے کے بغیر، براہِ راست آسمانوں پر فرض کیا گیا۔
شبِ معراج ہمیں کئی عظیم پیغامات دیتی ہے: جو اللہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر آسمانوں تک لے جاسکتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ معراج اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت حالات کے بعد اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ جو شخص نماز کو سنوار لے، وہ اپنی زندگی کو سنوار لیتا ہے۔ معراج نبی کریم ﷺ کے اعلیٰ مرتبے اور اللہ کے قرب کا واضح اعلان ہے۔
اگرچہ شریعت میں شبِ معراج کی کوئی مخصوص عبادت مقرر نہیں، مگر علما کے نزدیک اس رات نفل نماز، تلاوتِ قرآن، درود شریف، ذکر و اذکار اور دعا کرنا باعثِ اجر ہے۔ یہ رات ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے اور اللہ سے سچی توبہ کا موقع فراہم کرتی ہے۔
شبِ معراج محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان کو زندہ کرنے والی رات ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ اللہ سے جڑنے میں ہے اور نماز اس تعلق کی سب سے مضبوط کڑی ہے۔ اگر ہم شبِ معراج کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو نہ صرف ہماری عبادات سنور جائیں گی بلکہ ہمارے اخلاق، کردار اور معاشرت بھی بہتر ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ معراج کی حقیقی روح کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)۔