واپسی کا موقع

عبدالعزیز بلوچ

یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں، بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی ہے جو کبھی زندگی کی راہوں سے بھٹک گئے تھے مگر پھر کسی لمحے، کسی بات، یا کسی واقعے نے ان کے اندر وہ چراغ روشن کیا، جس نے انہیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹادیا۔ ایک چھوٹے سے شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام ریان تھا۔ ریان ذہین تھا، ہنستا مسکراتا اور خواب دیکھنے والا نوجوان۔ اس کے والد مزدور تھے اور ماں گھر کی سادگی اور محبت کی مثال تھیں۔ بچپن میں ریان کے خواب بڑے تھے۔ ڈاکٹر بننا، اپنے والدین کا سہارا بننا اور اپنے شہر کا نام روشن کرنا، لیکن زندگی ہمیشہ خوابوں کے مطابق نہیں چلتی۔
وقت گزرتا گیا۔ ریان کالج پہنچا۔ وہاں اسے نئے دوست ملے، نئی آزادی ملی اور ایک ایسا ماحول ملا جہاں ہر چیز "آزما کر دیکھنے” کے نام پر شروع ہوتی تھی۔ پہلے سگریٹ، پھر نشہ آور چیزوں کا معمولی استعمال اور پھر آہستہ آہستہ وہ عادت جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔ شروع میں اسے لگا کہ یہ سب صرف وقتی مزا ہے، تھکن دُور کرنے کا ایک طریقہ ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ "وقتی مزا” ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کو غلام بنا لیتی ہے۔ چند ہی سال میں ریان کی زندگی بدل گئی۔ اس کے خواب دھندلا گئے۔ تعلیم چُھوٹ گئی۔ دوست بکھر گئے۔ گھر والوں کی آنکھوں میں پریشانی نے جگہ لے لی۔ جو ماں کبھی اس کے لیے دعائیں کرتی تھی، اب ہر رات روتی تھی۔
والد کی کمائی کا بڑا حصہ علاج اور اس عادت کو چھڑانے کی کوششوں میں ختم ہونے لگا۔ ریان اب وہ نہیں رہا تھا جو کبھی امیدوں کا مرکز تھا۔ وہ ایک ایسی زندگی میں قید ہوچکا تھا جہاں خواہشیں تو تھیں، مگر ان پر اختیار نہیں تھا۔ ایک دن ریان شدید بیمار ہوگیا۔ اس کے جسم نے ساتھ چھوڑ دیا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں وہ کئی دن بے ہوش رہا۔ اس دوران اس کی ماں اس کے بستر کے پاس بیٹھی روتی رہی اور بار بار یہی کہتی رہی: "بیٹا، تم میری دعا کا جواب ہو، مجھے چھوڑ کر مت جانا۔”
یہ الفاظ ریان کے دل پر ایک تیر کی طرح لگے۔ بے ہوشی کے عالم میں بھی اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جب ریان ہوش میں آیا تو اس نے پہلی بار اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا۔ وہی چمکتا ہوا چہرہ اب تھکا ہوا تھا۔ آنکھوں میں ویرانی تھی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع کردیے ہوں۔ اسی لمحے اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا: "کیا میں اسی لیے پیدا ہوا تھا؟” یہ سوال اس کی زندگی کا رخ بدلنے والا تھا۔
ریان نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اس راستے پر نہیں چلے گا۔ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا۔ نشہ صرف جسم کو نہیں بلکہ ذہن اور ارادے کو بھی قید کرلیتا ہے۔ اس نے کئی بار کوشش کی، کئی بار گرا، کئی بار واپس اسی دلدل میں گیا، مگر ہر بار اس کے اندر ایک آواز اسے دوبارہ اٹھنے پر مجبور کرتی رہی۔
اس نے اپنے والدین سے معافی مانگی، بگڑے ہوئے دوستوں سے دوری اختیار کی اور ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا جو مثبت سوچ رکھتے تھے۔ نشہ چھوڑنا صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی جنگ بھی ہے۔ ریان نے اس جنگ کو لڑنا شروع کیا۔ اس نے خود کو مصروف رکھا، تعلیم دوبارہ شروع کی اور آہستہ آہستہ اپنی زندگی کو ترتیب دینا شروع کیا۔ ہر دن ایک نئی جدوجہد تھی، لیکن ہر کامیابی اسے مزید مضبوط بناتی گئی۔
مہینوں کی محنت کے بعد ریان کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ دوبارہ پڑھائی کی طرف آیا۔ اس نے ایک چھوٹا سا کام شروع کیا تاکہ اپنے والدین پر بوجھ نہ بنے۔ اس کی ماں کی آنکھوں میں دوبارہ خوشی لوٹ آئی۔ اب وہ وہی لڑکا نہیں تھا جو اندھیروں میں کھو گیا تھا، بلکہ وہ ایک ایسا انسان تھا جس نے اندھیرے دیکھ کر روشنی کی قدر جانی تھی۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نشہ ایک ایسا راستہ ہے جو شروع میں آسان اور پُرکشش لگتا ہے مگر انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ یہ انسان سے اس کی عزت، خواب، رشتے اور سکون سب کچھ چھین لیتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، جب تک وہ خود ہار نہ مان لے۔ اگر ارادہ مضبوط ہو، مدد موجود ہو اور دل میں سچائی کی خواہش ہو، تو ہر شخص اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔
نشہ کرنے والا انسان برا نہیں ہوتا، وہ صرف ایک ایسی جنگ میں ہوتا ہے جس میں اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے، خاندان اور دوستوں کا کردار بہت اہم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو چھوڑنے کے بجائے انہیں سنبھالیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم نہ صرف خود کو بچائیں بلکہ دوسروں کو بھی اس اندھیرے سے نکالنے میں مدد کریں۔ زندگی ہمیشہ ایک موقع دیتی ہے، واپسی کا موقع۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم اس موقع کو پہچان لیں۔ اللہ ہمیں ہر برائی سے بچنے اور دوسروں کے لیے روشنی بننے کی توفیق دے۔ (آمین)۔