نیویارک: یورپی یونین اور امریکی ماہرین کے مطابق سال 2025 دنیا کا تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا، جس کے ساتھ ہی زمین پر غیر معمولی حدت کا سلسلہ مزید طویل ہوگیا ہے۔
یورپی یونین کے کوپر نیکس کلائمیٹ چینج سروس اور امریکی تحقیقی ادارے برکلے ارتھ کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ 11 سال دنیا کے گرم ترین سال رہے ہیں، جن میں 2024 سب سے زیادہ گرم جب کہ 2023 دوسرے نمبر پر رہا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں پہلی مرتبہ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا ہے۔
برکلے ارتھ کا کہنا ہے کہ 2023 سے 2025 کے دوران درجۂ حرارت میں اضافہ غیر معمولی رہا، جو زمین کے تیزی سے گرم ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔
کوپر نیکس کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ 1.5 ڈگری کی حد اس دہائی کے اختتام سے پہلے ہی عبور ہوسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ جلد ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس حد کے عبور کو ناگزیر قرار دے چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی سے نقصان کی مدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ دنیا بھر میں قریباً 77 کروڑ افراد نے اپنے علاقوں میں ریکارڈ گرم موسم کا سامنا کیا جب کہ کہیں بھی ریکارڈ سرد سال درج نہیں ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ 2026 میں بھی گرمی کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگر ایل نینو موسمی نظام فعال ہوا تو یہ سال بھی ریکارڈ توڑ گرم ہوسکتا ہے۔