نیب ٹیم کا شہبازکی رہائش گاہ پر چھاپہ، اُن کی عدم موجودگی پر دوسری ٹیم جاتی امرا روانہ

لاہور : نیب کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو گرفتار کیے بغیر ان کی رہائش گاہ سے واپس روانہ ہوگئی۔
نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نیب لاہور کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیش نہ ہونے پر پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچی تھی۔ ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم کے پاس شہباز شریف کی گرفتاری کے وارنٹ بھی موجود تھے تاہم انہیں گرفتار کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کےلیے لاہور میں ان کے گھر پہنچی تھی۔ معاملے کا علم ہوتے ہی مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب اور ن لیگ کے دیگر قائدین بھی موقع پر پہنچے۔
دریں اثناء نیب کی ایک اور ٹیم شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے جاتی امرا روانہ ہوگئی ہے۔
نیب نے سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔ شہباز شریف نے نیب میں پیش نہ ہونے کے حوالے سے تفصیلی جواب بھجواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ 69 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور کینسر کے مریض ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ لاہور سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے جس کے باعث وہ نیب میں پیش نہیں ہوسکتے، لہذا نیب نے جو تحقیقات کرنی ہیں وہ ویڈیو لنک اور اسکائپ کے ذریعے جواب لے سکتا ہے۔
شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس پر سماعت کل ہوگی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ان کا کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔
صدر مسلم لیگ ن پنجاب رانا ثناء اللہ نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، شہباز شریف کی گرفتاری حیلے بہانوں سے کرنی ہیں تو کریں، یہ گرفتاریاں کرتے کرتے تھک جائیں گے لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، عدلیہ اپنا کردار ادا کرے گی۔