براؤزنگ بلاگز

بلاگز

ایک آواز جس نے عالم کو تسخیر کیا

احمد اقبال بات زمانہ قدیم کی ہے جب الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے نام مروجہ لغت میں نہ تھے۔ جب بالاخر 1954 میں ریڈیو خریدا گیا تو ہم ٓاوازوں کی دنیا سے متعارف ہوۓ۔ ۔سال ہا سال تک دو آوازوں کا جادو کانوں میں رس گھولتا رہا۔ پہلی آواز امین سیانی

نیوزی لینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت اور پاکستان

غلام مصطفی لگتاہے پاکستان سے کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کے میدان ویران کرنے کیلئے دشمنوں ملکوں نے پس پردہ محاذ بنالیاہے۔ بھارت تو ہر وقت پاکستان کے خلاف زہر اگلا رہتاہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان سے کرکٹ کو ختم کرنے کیلئے سازشیں کی ہیں، یہی وجہ ہے

پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوج کی برسی خاموشی سے گزر گئی

محمد احمد طرازی پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کون تھے؟ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج پاکستان کی قابلِ فخر درس گاہ جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامی میں فقہ و تفسیر قرآن کریم کے مایہ ناز استاد تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد

استاد کبھی نہیں مرتے

زاہر نور یوسفی یہ کراچی یونیورسٹی میں ہمارے ماسٹرز فائنل ائیر کے آخری سمسٹر کی بات ہے۔ پوری کلاس میں سکوت طاری تھا۔ ایسے میں پروفیسر صاحب نے پوچھا، "مونا لیزا کی شہرہ آفاق پینٹنگ کس نے بنائی تھی؟" پوری کلاس گونج اٹھی، "لیونارڈو

حسبِ توقع برطانیہ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان سے روک دیا!

ملک جہانگیر اقبال جیو پالیٹکس کے طالب علموں کیلئے یہ کوئی انوکھی خبر نہیں، لیکن ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید مغرب کی آنکھ میں شرم کا کوئی بال ہوگا، پھر یاد آیا کہ میرے استاد کہا کرتے تھے کہ بین الاقوامی سیاست کا کوئی مذہب،

گاندھی کا مرن برت اور اس کی حقیقت

محمد عارف گل قتل کسی انسان کا بھی ہو ایک ظلم عظیم ہے اور ایک سیاسی و مذہبی لیڈر کا قتل اور بھی قابل مذمت، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ گاندھی کی موت کے دن ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ گاندھی نے پاکستان کے لیے جان دی۔ ہاں اس نے

قصہ بس کے سفر کا

ملک جہانگیر اقبال اسلام آباد سے کراچی واپسی کے سفر میں ہوں۔ آتے ہوئے بھی اسی لگژری بس سے سفر کیا تھا تو سوچا واپسی بھی اسی بس میں کی جائے۔ اچھا ٹھیک ہے بھئی، مان لیا کہ واپسی پر جہاز کے ٹکٹ پچیس ہزار کے ہوئے پڑے تھے، لہٰذا

پاکستان کرکٹ پر خودکُش حملہ

محمد راحیل وارثی گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 18 برس بعد پاکستان پہنچی تو شائقین کرکٹ میں ان مقابلوں کے حوالے سے خاصا جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پریکٹس کے لیے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم بھی آتی جاتی رہی۔ 17

خود کشی (قسط نمبر 2)

ابرام گرگ اب رسی پنکھے سے لٹک رہی تھی، مجھے کوئی جلدی نہیں تھی، پھر بھی خود کشی میرے لئے ایک بالکل مختلف نوعیت کا تجربہ تھا، کیونکہ میں جانتا تھا یہ دنیا میں میری سیکھنے کی آخری چیز ہے، اسے مجھے ہر پہلو سے خوب غور سے دیکھنا

ایک دن بہادرشاہ ظفر کے ساتھ۔

ثنا اللہ خان احسن مغل بادشاہ کے آنکھوں دیکھے شب و روز بادشاہ کیسی زندگی گزارتے تھے! مغلوں کے کھانے اور ان کے نام اورنگ زیب عالمگیر کے بعد سے مغلوں کے اقتدار کو گُھن تو لگنا شروع ہو گیا لیکن وضع داریاں باقی تھیں، اچھی بری رسمیں