جب یاسر حبیب نے امریکی کہانیوں کی محفل سجائی، تذکرہ ایک بیش قیمت کتاب کا

کیا آپ جیک لنڈن، ہیمنگ وے، مارک ٹوئن سے ملنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ نوبیل انعام یافتہ ادیب ایلس منرو، ٹونی موریسن اور آئزک بشوس سنگر کو پڑھنے کے خواہش مند ہیں؟ یا بکر اور پلٹزر پرائز سے نوازے جانے والے ایلس واکر اور مارگریٹ ایڈورڈ کی کہانیوں کی

ایک قدآور دبدبہ

وہ لاہور کی ایک خاموش صبح تھی، جب ایک پنچ ستارہ ہوٹل کے پارکنگ ایریا میں ایک ٹیکسی آن کر رُکی۔اور اس میں سے ایک بوڑھا، لمبا چوڑا آدمی، جس نے ٹراؤز پہن رکھا تھا، اور اوپر ٹی شرٹ تھی، جس پر کوٹ چڑھا تھا، نیچے اترا۔اس کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔

انتظار: ایک ٹھہری ہوئی کہانی!

ایک بار ایک ادبی کانفرنس میں،بھیڑ بھاڑ میں، شور شرابے میں، کھانے کے وقفے میں ۔ ۔ ۔ ۔ہماری نظری میز کے ادھر کھڑی "خاموشی" پر پڑی۔انتظار حسین صاحب،ایک کہانی کی صورت ہمارے سامنے تھے۔لاتعلق، مطمئن اور اساطیری۔وہ دھیرے سے آگے بڑھے۔انھوں نے میز

ڈیگو:جادوئی میدانوں کا فسوں گر رخصت ہوا!

جب تک فٹ بال کا کھیل زندہ ہے، میراڈونا کا نام زندہ رہے گا اقبال خورشید سن 86 کے دو مناظر میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔یوں، جیسے کل ہی مجھ پر بیتے ہوں۔ایک منظر قصبہ علی گڑھ کے فسادات کا ہے۔ اوردوسرا؛ ڈیگو کی دمکتی مسکراہٹ کا۔پہلے منظرمیں

جب حسن منظر نے پریم چند سے ہماری ملاقات کرائی

کئی برسوں پر محیط تعلق اور متعدد انٹرویوز کی وجہ سے میں اس واقعے کے رونما ہونے کا منتظر تھا۔ کورونا سے لڑتے ہوئے، سماجی فاصلے کے اس نئے عہد میں یہ ایک بڑی خوش خبری تھی۔پختہ، گتھا ہوا اسلوب، جملے کی ساخت میں نیا پن، غیر ملکی لوکیل پر حیران

انگریزی میں ماسٹرز تو کر لیا، مگر اب کیا کریں؟

تعلیم کا مقصد فقط فرد کو باشعور بنانا نہیں، بلکہ اسے تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔ اور ان میں اہم ترین تقاضا روزگار کا حصول ہے۔یہ سوال ایک عرصے سے زیر بحث ہے کہ ادب اور لسانیات کی ڈگریز حصول روزگار میں کتنی معاون

سب رنگ کہانیوں کی دوسری بہار

صاحبو، ابھی سب رنگ کے عشاق سب رنگ کہانیاں کے پہلے حصے کے سحر میں تھے، قلم کار، تجزیہ کار ابھی اس کے تذکرے میں جتے تھے کہ اطلاع آئی، سب رنگ کہانیاں کا دوسرا حصہ بھی شایع ہوگیا ۔اپنے عشق کو تحقیق کا موضوع بنانے والے حسن رضا گوندل نے اس کی

کورونا بحران اردو ادب کو ارتقا دے گا: ثروت زہرا

کیا سانحات شاعری کا رخ بدل سکتے ہیں؟ کیا وبائیں ہمیں نئے الفاظ ادا کرتی ہیں؟ اس نشست کا مقصد ان ہی سوالوں کی کھوج تھی۔ادب زندگی کی ایک مکمل اکائی ہے، سماج میں آنے والے دیگر بحرانوں کے مانند کورونا بحران نے بھی اس اکائی اور اس سے وابستہ

وہ شخص، جس پر نوٹ برسا کرتے تھے

اقبال خورشید ہم امجد صابری کے گھر سے چند قدم دور تھے۔امجد صابری۔۔۔ جسے چند برس بعدبے دردی سے قتل کیا جانے والا تھا ، مگر ہماری منزل امجد صابری کا مکان نہیں تھا ۔ ہم اس صبح صابری برادرزکے اٹوٹ انگ، فرید صابری کے چھوٹے بھائی مقبول صابری

ہمارے فلم ساز جھوٹ بولتے ہیں، باکس آفس کو بڑھا چڑھا کربیان کیا جاتا ہے: خرم سہیل

”ہمارے فلم سازوں کی اکثریت اسکرپٹ اور موضوعات کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے، باکس آفس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ زمینی حقائق مدنظر رکھے بغیر پاکستانی انڈسٹری میں بہتری کے امکانات نہیں!“یہ خیالات ہیں متعدد کتابوں کے مصنف، اینکر،