بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے میں کون ملوث تھا؟

عاجز جمالی پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ 17 اگست 1988 کو آرمی چیف جنرل ضیا کے جہاز کے حادثے کے بعد انہوں نے تین گھنٹے کے اندر آئین کو بحال کردیا تھا۔ مرزا اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ

نہ بھٹو کو پھانسی ہوتی نہ جنرل ضیاء کا حادثہ ہوتا

بھٹو کو پھانسی ہوتی نہ جنرل ضیا کا حادثہ ہوتا نہ جنرل مشرف کی حکومت ہوتی نہ بے نظیر قتل ہوتی عاجز جمالی پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ ان فوجی سربراہان میں شامل ہیں جن کو بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت نے “تمغہ جمہوریت “ سے…

ممتاز بھٹو: آکسفورڈ، فیوڈل ازم اور پاکستانی سیاست

عاجز جمالی 70 کی دہائی پاکستان کی سیاست، ادب، ٹی وی ڈرامہ، انقلابی تحریکوں، پارلیمنٹ اور عالمی پس منظر میں انتہائی اہم دہائی رہی۔ گذشتہ نصف صدی تک مجموعی طور پر ہمارا سماج ستر کی دہائی کے گرد ہی گھومتا رہا، شاید آج تک گھوم رہا ہے۔ 70 کی

گاج ندی: تباہی اور خوش حالی ساتھ ساتھ

عاجز جمالی گاج ندی سندھ کے ضلع دادو اور جامشورو کی حدود میں واقع ہے۔ کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ سندھ اور بلوچستان کو ملاتا ہے، اس لیے گاج کی ابتدا تو بلوچستان کے ضلع خضدار کے پہاڑوں سے ہوتی ہے، لیکن وہاں سے شروع ہوکر ضلع لسبیلہ سے ہوتا

جب ممنون حسین گورنر بنے

عاجز جمالی کوئی لگ بھگ 22 سال پرانی بات ہے، اخبار کی رپورٹنگ ڈیسک پر خبر آئی کہ سندھ کا گورنر تبدیل ہورہا ہے۔ سندھ میں تب (ر) جنرل معین الدین حیدر گورنر تھے۔ معین الدین حیدر پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کے قریبی دوستوں میں سے

تاریخ کی تصویر کشی

الفاظ کے ذریعے واقعات اور حالات کی تصویر کشی کرنا اور واقعات کو جلا بخشنا واقعی انسانی تخیل کا بڑا فن ہے لیکن اس سے بڑا فن واقعات کی تصویر کھینچ کر انہیں زندگی بخشنا ہے۔ زندگی کے مناظر کو اپنی اصلی حالت میں تاریخ میں محفوظ کرنے والے فنکار

عبدالستار ایدھی، انسانیت کے علمبردار

عاجز جمالی حاجی صاب، میرا کام انسانیت کی کھِدمت کرنا ہے۔ جس کو جو من میں آئے کہے، میں فقیر آدمی ہوں، کیا پھرق پڑتا ہے۔“ میں نے ہو بہو وہ ہی الفاظ کاپی کیئے ہیں جو ایدھی صاحب نے مجھے اپنی آخری ملاقات میں کہے تھے۔ یہ ملاقات ایدھی

دلیپ کمار اور روح کی سرحدیں

عاجز جمالیکلا کی سرحدیں تو نہیں ہوتیں لیکن کلاکاروں کو بہرحال دیواروں کی سرحدیں روک لیتی ہیں۔ دلیپ کمار ایک ایسا کلاکار تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بھی اس نے خود کو برصغیر سے جوڑ رکھا تھا۔ یہ تو وجہ تھی کہ وہ یوسف خان رہتے ہوئے دلیپ کمار

دو چار ملاقاتیں

عاجز جمالی یہ ان دنوں کی بات ہے جب انتخابات کے بعد میاں نواز شریف کی سب سے طاقت ور حکومت بن چکی تھی کیونکہ 1997 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا ہوا تھا۔ 2017 کے ایوان میں پیپلز پارٹی پورے ملک میں قومی اسمبلی کی

پانچ جولائی 1977ء جب فلائٹ مس ہوگئی

عاجز جمالی پانچویں جماعت کے امتحان سے فارغ ہوکر پہاڑوں پر کھیل کود جاری تھا۔ سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع اپنے آبائی گاؤں ٹنڈو رحیم کئی ماہ سے دادو اور سہون سے آنے والے دونوں زمینی راستے کئی ماہ سے کٹے ہوئے تھے۔ بس ایک ہی