حضرت علی رضی اللہ عنہ

حافظہ عاٸشہ احمد

ابوالحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قرشی آقا ﷺ کے چچا زاد اور داماد تھے۔ عثمان بن عفان کے بعد چوتھے خلیفہ راشد۔ ابو طالب اور فاطمہ بنت اسد کے گھر 13 رجب المرجب کو آنکھ کھولی۔ روایات کے مطابق علی المرتضی ؓ مقدس ترین اسلامی شہر مکہ میں کعبہ کے اندر جاۓ حرمت میں پیدا ہوۓ۔ علی ؓ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے ۔ ابتداٸی دور میں حضرت علیؓ نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اور لڑی گٸ تمام جنگوں میں حصہ لیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد آقا ﷺ کی سب سے لاڈلی صاحبزادی سیدہ کاٸنات فاطمہ الزھرا سے آپؓ کا نکاح ہوا۔ جہاد سمیت اسلام اور آقاﷺ کے لۓ کسی کام کرنے سے انکار نہیں کیا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپؓ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوۓ اجزاۓ قرآن کے امانتدار بھی آپ ؓ تھے۔ اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے لۓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو روانہ کیا جس میں آپ ؓ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔

شب ہجرت آپؓ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر اپنی جان کی پروا کۓ بغیر گۓ۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم علیؓ سے بہت محبت کرتے تھے اور اپنے قول و فعل سے انکی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” علی مجھ سےہے اور میں علی سے ہوں“ ۔ ایک بار ارشاد فرمایا: ” علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی“۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپؓ نے ہی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لحد میں اتارا۔ آپؓ سادہ زندگی گزارنے کے قاٸل تھے۔ آپؓ کھجوروں کو بیچنے کا کام کرتے تھے اور اس میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔ خیبر کو فتح کرنے والے اور مرحب کو ایک ہی وار میں ختم کرنے والے علیؓ پیوند لگے کپڑے پہنتے ، زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اور جو روپیہ بیت المال سے آتا اسے مستحقین میں تقسیم فرما دیتے۔

حضرت علیؓ کو 19 رمضان المبارک کو عین نماز کی حالت میں صبح کے وقت زہر آلود تلوار سے زخمی کیا گیا 2 روز تک حضرت علیؓ بستر بیماری پر انتہاٸ کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور آپؓ 21 رمضان المبارک کو نماز صبح کے وقت اس دنیا سے پردہ فرما گۓ۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔