سفر عشق حسینی علیہ السلام

نازیہ علی

ہم خاتم النبین حضرت محمد مصطفے’ صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کے امتی اور دین اسلام پر چلنے والے مسلمان ہیں۔مسلمان وہ جو اللہ پر پورا ایمان رکھ کر توحید کا اقرار کرتا ہے مسلمان وہ جو خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ’ وآلہ’ وسلم کو آخری نبی مان کر رسالت کا اقرار کرتا ہے۔خاتم النبین حضرت محمد مصطفے’ صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم پر ایمان لانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کی آل صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کا نماز میں درود پڑھنے والے اہلیبیت علیہ السلام کی اہمیت اور درجات نہ سمجھیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہمارے پیارے آقا خاتم النبین حضرت محمد مصطفے’ صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم نے ہمیشہ پنجتن پاک علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا اور اللہ تعالی’ نے بھی قرآنی آیات ہوں یا احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ’ وآلہ’ وسلم ہر جگہ یہ واضع کر دیا کہ اہل بیت علیہ السلام کا اسلام میں بلند مقام ہے۔خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ’ وآلہ’ وسلم کے لاڈلے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کو بھرے خاندان کے ہمراہ کربلا کے تپتے صحرا پر یزیدی فوج نے شہید کر دیا۔10 محرم روز عاشور نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام کو جب شہید کیا گیا اس سے پہلے سیدہ فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا کے لال ، امام علی علیہ السلام کے شہزادے امام حسین علیہ السلام نے کیسے اپنے پیاروں کے لاشے اٹھائے۔امام علیہ السلام کے سامنے انکے 6 ماہ کے معصوم شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کے سوکھے گلے پر تیر چلایا گیا۔امام حسین علیہ السلام کے جوان لاڈلے بیٹے اور شبیہ پیغمبر خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم ، شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کو شہید کیا گیا۔امام علیہ السلام کے بہادر اور وفا کے پیکر بھائی حضرت عباس علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا۔امام علیہ السلام نے شہادت سے پہلے کتنے جوان لاشے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے مگر حضرت امام حسن علیہ السلام کے جگر گوشے شہزادہ قاسم علیہ السلام نے تو امام علیہ السلام اپنے لاڈلے چچا کو اپنے بابا حضرت امام حسن علیہ السلام کی وصیت کا تعویز دکھا کر میدان کربلا میں جنگ لڑنے کی اجازت لی تھی امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بھتیجے شہزادہ قاسم علیہ السلام کے جسم کے ٹکڑے میدان کربلا سے کس طرح جمع کیے۔یہ منظر کربلا سے شام کا سفر کرنے والی امام علیہ السلام کی بہن شہزادی زینب سلام اللہ علیہا ، امام علیہ السلام کی معصوم بیٹی شہزادی سکینہ سلام اللہ علیہا اور بیٹے بیمار کربلا امام سجاد علیہ السلام کیسے بھول سکتے تھے۔یزید کے دربار میں امام علی علیہ السلام کی بیٹی شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے لہجہ علی علیہ السلام میں یزید کو للکارا تھا۔شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے واقعہ کربلا کے بعد جو خطبات کیے اس میں یزیدی فوج کے مظالم اور اپنے نانا خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کے دین اسلام کو بچانے کیلئے شہادت قبول کرنے والے مظلوم امام حسین علیہ السلام کے فضائل شامل تھے۔ امام علی علیہ السلام کی بہادر بیٹی شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبات کے ذریعے واقعہ کربلا کو ہمیشہ کیلئے تاریخ کا حصہ بنا کر محبان اہل بیت کے دل میں اتار دیا اور اسی لئے کربلا کی یاد اور غم آج بھی جاری ہے۔خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ان میں سے پہلی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ،تم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔دوسرے میرے اہل بیت علیہ السلام ہیں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت علیہ السلام کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈراتا ہوں۔افسوس کے خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد انکے اہل بیت علیہ السلام کو امت نے اتنا ستایا کہ واقعہ کربلا اسکی مضبوط مثال ہے شہزادی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کا "اربعین”چہلم کیا اور وہی چہلم”اربعین” امام حسین علیہ السلام ہر سال اسلامی تاریخ 12 صفر کو ایران سمیت پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔اربعین یوم عاشورہ کے چالیس دن بعد منایا جاتا یے۔اسکا مقصد خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام کی شہادت کی یاد منانا یے۔امام حسین علیہ السلام میدان کربلا میں اپنے رفقاء سمیت شہید ہوئے۔اربعین کےچدن دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کا انعقاد ہوتا یے اور کروڑوں لوگ کربلا ، عراق میں زیارات اربعین پڑھنے اور سیدالشہداء کی یاد کا ماتم منانے وہاں جاتے ہیں اس سال کورونا وائرس کی عالمی وبا کی پیش نظر ایس او پیز کی وجہ سے تمام ممالک سے اس زیارت کو کچھ محدود کیا گیا یے جبکہ پاکستان میں بھی اربعین امام حسین علیہ السلام کیلئے سیکیورٹی اور ایس او پیز کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔اربعین پر ایران اور بیشتر ممالک میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور محبان اہل بیت علیہ السلام کے ماتمی دستے سڑکوں پر نکل کر عزاداری کرتے ہیں۔بہت سی احادیث میں اس دن میں زیارت اربعین پڑھنے اور روضہ امام حسین کی زیارت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔جابر بن عبداللہ انصاری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔وہ عطیہ (یا عطاء) بن سعید کے ہمراہ 61 ھ کے واقعہ عاشورہ میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے چالیس دن بعد، یعنی پہلی اربعین کو کربلا آئے اور قبر حسین کی زيارت کی۔امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول حدیث میں زیارت اربعین کو مومن کی پانچ نشانیوں میں سے ایک نشانی بتایا گیا ہے۔نیز یوم اربعین کے لیے ایک زیارت نامہ امام جعفر صادق سے منقول ہے۔شیخ عباس قمی نے اس زیارت نامے کو مفاتیح الجنان کے تیسرے باب میں زيارت عاشورہ غير معروفہ، میں متن زیارت اربعین کے عنوان سے درج کیا ہے۔
قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ زیارت اربعین، زیارت "مَرَدّ الرَّأس” بھی کہلاتی ہے۔ "مَرَدُ الرأس” یعنی سر کا لوٹا دیا جانا، کیونکہ اس روز اسیران اہل بیت علیہ السلام کربلا پلٹ کر آئے تو وہ امام حسین علیہ السلام بن علی کا سر مبارک بھی شام سے واپس لائے تھے جس کو انہوں نے امام حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام کے ساتھ دفن کیا۔اربعین کے جلوس وہ عظیم مذہبی جلوس ہیں۔ جو اربعین حسینی "چہلم امام حسین علیہ السلام” کی مناسبت سے، وسیع عالمی سطح پر، کربلا جاتے ہیں تاکہ وہاں پہنچ کر زیارت اربعین کی قرائت میں شرکت کرسکیں۔زیارت اربعین پر آئمہ کی تاکید کی بنا پر لاکھوں مسلمان دنیا کے مختلف ممالک، بالخصوص عراق کے مختلف شہروں اور قصبوں سے کربلا کی طرف نکلتے ہیں۔اکثر زائرین پیدل چل کر اس عظیم مہم میں شریک ہوتے ہیں بے شک یہ ریلیاں دنیا کی عظیم ترین مذہبی ریلیاں بنیں۔دسمبر 2013ء بمطابق صفر المظفر 1435 ھ، مستند اندازوں کے مطابق اس سال دو کروڑ زائرین اس عظیم جلوس عزاداری میں شریک ہوئے ۔بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ اس سال کربلا پہنچنے والے زائرین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ تھی۔دنیا کے اس عظیم ترین اجتماع میں مجموعی طور پر شریک افراد کی تعداد ہر سال کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔محمد علی قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ اربعین کے دن کربلا کا سفر اختیار کرنا آئمۂ اطہار علیہم السلام کے زمانے میں بھی محبان اہل بیت علیہ السلام کے درمیان رائج تھا اور حتی کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں بھی محبان اہل بیت علیہ السلام اس سفر کے پابند تھے۔ وہ اس عمل کو محبان آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم خاتم النبین کی سیرت مستمرہ یعنی ہمیشہ سے جاری اور مسلسل سیرت سمجھتے ہیں۔سنہ 1388ھ بمطابق 1967ء میں شائع ہونے والی کتاب ادب الطّف کے مؤلف سید جواد شبر کربلا میں اربعین حسینی کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کا موازنہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کے عظیم اجتماع سے کرتے ہیں اور ماتمی انجمنوں کی حاضری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان میں بعض ترکی زبان میں اور بعض فارسی زبان اور اردو زبان میں اشعار پڑھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں  یہ مبالغہ نہیں ہے اگر میں کہوں کہ دس لاکھ افراد زیارت اربعین کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔عراق میں بعثی نظامِ حکومت کے خاتمے کے بعد جو ہر قسم کی عزاداری کے راستے میں رکاوٹ تھا، پہلی بار سنہ 2003 ء میں محبان اہل بیت علیہ السلام نے اربعین کے موقع پر کربلا کا رخ کیا۔ اس عزیمت کے دوبارہ شروع ہونے پر کربلا جانے والوں کی تعداد 20 سے 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ دو سال بعد ان زائرین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔سنہ 2013ء بمطابق سنہ 1435 ھ کو اربعین کے لیے کربلا کے عازمین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچی۔ایران اور پاکستان سمیت مشرق و مغرب کے دوسرے ممالک سے بھی لاکھوں افراد اس دن کربلا پہنچتے ہیں۔ زیارت امام حسین علیہ السلام کا یہ سلسلہ چاہے روز عاشورہ پر ہو، اربعین پر یا سال کے کسی بھی دن کی زیارت پر مگر یہ مسلمانوں کیلئے ایک عظیم زیارت اور باعث خوش نصیبی ہے ۔ہمارے جیسے محبان اہل بیت علیہ السلام کا دل ہر بار تڑپ کر بس یہی کہتا ہے کہ جانے والے کربلا کے کربلا لے چل مجھے۔اللہ خاتم النبین اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ’ وسلم اور اہل بیت علیہ السلام کے صدقے میں ہم تمام مسلمانوں کی جائز مرادیں پوری فرمائے اور ہمیں حج و عمرہ سمیت تمام زیارت مقدسہ نصیب فرمائے۔آمین

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔